Posts

Showing posts from February, 2021

تمہیں معلوم ہے صاحب ‏از ‏نواز ‏ظفر

تمہیں معلوم ہے صاحب! محبت ریشمی تاروں کے جیسی نرم و نازک بے کہ اکثر سانس لینے سے یہ مالا ٹوٹ جاتی ہے! کسی کا قول ہے صاحب، "محبت رکھ رکھاؤ ہے!" اگر اس رکھ رکھاؤ میں ذرا سا فرق آ جائے یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے! محبت تیز پانی کے مخالف چلتی ناؤ ہے ہوائیں جب مخالف ہوں اور اپنے بھی عداوت پر اتر آئیں تو پانی بھر ہی جاتا ہے! یہ کشتی ⛵ ڈوب جاتی ہے! محبت اک بھروسہ ہے یقیں کا اک علاقہ ہے جہاں پر پیار کے خوشبو بھرے غنچے چٹکتے ہیں! یہاں پُر اعتمادی کی طرح تم نے ہی ڈالی تھی مگر بےاعتمادی کی طرح بھی تم نے ڈالی ہے! یہ کہنا کچھ، یہ کرنا کچھ تمہاری ذات میں کیوں ہے؟ کہ ایسی دو رُخی باتیں منافق لوگ کرتے ہیں! مگر مَیں تو نہیں بدلا کہ دشتِ انتظاری میں ابھی آنکھیں بھٹکتی ہیں! صلیبِ اضطراری پر یہ دل اب تک لٹکتا ہے! ابھی ہڈیوں کے پنجر میں لہو جھنکار بجتی ہے! ابھی آنکھوں کے دریا میں مکمل خشک سالی کا زمانہ در نہیں آیا! اگر تُم لَوٹ آؤ تو یہ ساری تلخیاں صاحب چلو مَیں بُھول جاتا ہُوں! مگر وعدہ کرو تم بھی کہ دوبارہ محبت کو نہ ایسے آزماؤ گے! نہ ایسے آزماؤ گے!! (نواز ظفر)

میں ‏نے ‏اکثر ‏یہ ‏سوچا ‏یے ‏از ‏یوسف ‏خالد

میں نے اکثر یہ سوچا ہے چاہت کیا ہے کتنا چاہا جا سکتا ہے کیسے اک احساس کو ماپا جا سکتا ہے چاہت کے اعماق میں پنہاں بےچہرہ احساس کی کوئی کھوج لگائی جا سکتی ہے کیا کوئی معیار مقرر ہو سکتا ہے؟ اک آواز نے میری سوچ پہ دستک دے کر مجھے سے پوچھا کیا یہ سانسیں جن کی بابت زندہ ہو تم کیا یہ سانسیں گن سکتے ہو؟ کیا آنکھوں میں پلنے والے سارے دکھ پہچانتے ہو؟ کیا آنکھوں کے اندر جا کر آنکھ سے باہر آنے والے اشکوں کی تصویریں ڈھونڈ کے لا سکتے ہو؟ کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟ کیا تم کو معلوم ہے آنکھیں خواب کہاں سے لے آتی ہیں؟ کیا تم سارے خواب سنبھال کے رکھ سکتے ہو؟ کیا تم رات کی رانی کی خوشبو کا پیچھا کر سکتے ہو؟ کیا تم ہاتھ نہ آنے والے سارے رنگوں ساری خوشبوؤں سے اپنا ناطہ توڑ کے پھر بھی زندہ رہ سکتے ہو؟ کیا تم جو بھی کرنا چاہو کر سکتے ہو؟ جب تم کچھ بھی کر نہیں سکتے پھر بےکار سی سوچیں لے کر کیوں بیٹھے ہو؟ پیار کرو!! (یوسف خالد)