تمہیں معلوم ہے صاحب از نواز ظفر
تمہیں معلوم ہے صاحب! محبت ریشمی تاروں کے جیسی نرم و نازک بے کہ اکثر سانس لینے سے یہ مالا ٹوٹ جاتی ہے! کسی کا قول ہے صاحب، "محبت رکھ رکھاؤ ہے!" اگر اس رکھ رکھاؤ میں ذرا سا فرق آ جائے یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے! محبت تیز پانی کے مخالف چلتی ناؤ ہے ہوائیں جب مخالف ہوں اور اپنے بھی عداوت پر اتر آئیں تو پانی بھر ہی جاتا ہے! یہ کشتی ⛵ ڈوب جاتی ہے! محبت اک بھروسہ ہے یقیں کا اک علاقہ ہے جہاں پر پیار کے خوشبو بھرے غنچے چٹکتے ہیں! یہاں پُر اعتمادی کی طرح تم نے ہی ڈالی تھی مگر بےاعتمادی کی طرح بھی تم نے ڈالی ہے! یہ کہنا کچھ، یہ کرنا کچھ تمہاری ذات میں کیوں ہے؟ کہ ایسی دو رُخی باتیں منافق لوگ کرتے ہیں! مگر مَیں تو نہیں بدلا کہ دشتِ انتظاری میں ابھی آنکھیں بھٹکتی ہیں! صلیبِ اضطراری پر یہ دل اب تک لٹکتا ہے! ابھی ہڈیوں کے پنجر میں لہو جھنکار بجتی ہے! ابھی آنکھوں کے دریا میں مکمل خشک سالی کا زمانہ در نہیں آیا! اگر تُم لَوٹ آؤ تو یہ ساری تلخیاں صاحب چلو مَیں بُھول جاتا ہُوں! مگر وعدہ کرو تم بھی کہ دوبارہ محبت کو نہ ایسے آزماؤ گے! نہ ایسے آزماؤ گے!! (نواز ظفر)