Posts

Showing posts from March, 2026

30 Ramadan Reminders by Life With Allah

https://lifewithallah.com/wp-content/uploads/2023/03/30RamadanReminders1446.pdf

بدترین برگ و بار والا مذہب

کبھی آپ پچھتائیں گے کہ اس #لبرل مذہب کو معاشرے میں پنپتا چھوڑ دیا تھا === امریکہ کی اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ووسٹر Islamic Society of Greater Worcester (میساچوسٹس) میں مجھ سے پہلے مصر کے ایک خطیب ہوتے تھے جو بیچارے آج کل جنرل سیسی کی جیل میں جا پھنسے ہیں، اللہ ان کو وہاں سے رہائی دلائے۔ ڈاکٹر صلاح سلطان۔ انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ بزبانِ خود سنایا اور بعد ازاں ان کا یہی واقعہ شیخ وجدی غُنَیم نے شکاگو میں اکنا کے سالانہ کنونشن میں بھی نقل کیا۔ کہتے ہیں: میں مصر سے نیا نیا شریعت میں پی ایچ ڈی کر کے آیا تھا۔ سب حدیثیں ابھی حافظہ میں تازہ تھیں۔ اور امریکہ کا ماحول میرے لیے بہرحال نیا تھا۔ امریکہ میں ائمہ و خطباء کے پاس لوگ اپنے تقریباً سبھی مسائل لے کر آتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ایک دن ایک فیملی میرے پاس آئی اور درخواست کی کہ میں ان کے ایک ٹین ایجر بچے کو فہمائش کےلیے ایک سیشن دوں جو جنسی بےراہ روی کا شکار ہونے لگا ہے، شاید کہ میرے سمجھانے سے کچھ سمجھ جائے۔ میں نے نوجوان کو اپنے آفس میں بلایا اور کچھ ابتدائی گفتگو کے بعد برسرِ مطلب آ گیا۔ واقعتاً محسوس ہوا، لڑکے کو نصیحت کی شدید ضرو...

دل

•●❤️ دل ❤️●• دل کعبہ دل مسجد مندر دل دربار فقیراں دل دُنیا دل اُڑن کھٹولا دل زِندان اسیراں •● فرحت عباس شاہ ●•

صرف ایک ٹچ

*جس پارہ پر ٹچ کریں گے اس پارہ کی تلاوت مع اردو ترجمہ شروع ہوجائےگی*  *آپ کے صرف ایک شیئر سے لاکھوں لوگ تلاوت سن سکتے ہیں* *پارہ نمبر 1* *http://bit.ly/2qpLHGY*  *پارہ نمبر2* *http://bit.ly/2qnS2Ha* *پارہ نمبر3* *http://bit.ly/2sbSqoq* *پارہ نمبر4 http://bit.ly/2r6TOeq* *پارہ نمبر5 http://bit.ly/2qzzsYk* *پارہ نمبر6 http://bit.ly/2qI4EE2* *پارہ نمبر7 http://bit.ly/2rW88HS* *پارہ نمبر8 http://bit.ly/2qK0aO4* *پارہ نمبر9 http://bit.ly/2rBqzB0* *پارہ نمبر10 http://bit.ly/2s3dkdd* *پارہ نمبر11 http://bit.ly/2so5po5* *پارہ نمبر12 http://bit.ly/2rzgVP9* *پارہ نمبر13 http://bit.ly/2rSIJ1l* *پارہ نمبر14 http://bit.ly/2sk5Lid* *پارہ نمبر15 http://bit.ly/2rKJHw3* *پارہ نمبر16 http://bit.ly/2sMTr7y* *پارہ نمبر17 http://bit.ly/2r9opp2* *پارہ نمبر18 http://bit.ly/2rpK4c8* *پارہ نمبر19 http://bit.ly/2rpq1iW* *پارہ نمبر20 http://bit.ly/2rAX4Mc* *پارہ نمبر21 http://bit.ly/2rBv2Aa* *پارہ نمبر22 http://bit.ly/2sbmkft* *پارہ نمبر23 http://bit.ly/2rtPXpH* *پارہ نمبر24 http://bit.ly/2sfUCOE* *پا...

ایک کہانی

ایک کہانی مَیں تنہا تھا، سرد ہوا تھی، رات کے پچھلے پہر کی کالی خاموشی تھی پیڑوں کے چہروں پہ اک بے نام تحیّر تھا جیسے وہ میرے پیچھے کوئی دشمن دیکھ رہے ہوں، دُور دُور تک چاروں جانب ویرانی کا جال تنا تھا، مَیں اس منظر کی ہیبت سے خائف تھا اور اپنے دل میں سوچ رہا تھا "آگے میرے دوست کھڑے ہیں، جنگل کے اُس پار نہایت بےچینی سے میرا رستہ دیکھ رہے ہیں، اُن کی رس میں ڈوبی باتیں، چاہت سے معمور نگاہیں پھیلی باہیں میرے غم کا مرہم ہوں گی سفر صعوبت سُن کر اُن کی آنکھیں شبنم شبنم ہوں گی جب مَیں اُن کو وہ سب چیزیں جو مَیں جنّوں اور دیووں سے لڑ کر لایا ہوں، دُوں گا تو اُن کے چہرے کِھل اٹھیں گے وہ پوچھیں گے! ....." ابھی مَیں دل میں اُن کے سوالوں کے جُملے ہی سوچ رہا تھا یکدم مجھ پر جانے کہاں سے کچھ سائے سے ٹوٹ پڑے، میرے سینے اور کندھے میں اُن کے ٹھنڈے خنجر اُترے، خُون بہا تو مَیں نے بچنے کی کوشش میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھائے لیکن میرے ہاتھ نہیں تھے! میری آنکھوں کے آگے سے ساری چیزیں ڈوب رہی تھیں، سائے مجھ پر جھپٹ جھپٹ کر وہ سب چیزیں لُوٹ رہے تھے جن کی خاطر میرے ساتھی جنگل کے اُس پار کھڑے تھے! یکدم اک ...

آنسو کیا ہیں؟ _ واصف علی واصف

آنسو کیا ہیں؟ بس موتی ہیں __ چمکنے والے، بہنے والے۔ گرم آنسو انسان کی فریاد ہیں، پرانی یادوں کے ترجمان ہیں۔ یہ آنسو انمول خزانہ ہیں __ معصوم و پاکیزہ، مستور دوشیزه کے حُسن سے زیادہ حسِین، حُور سے زیادہ مکنُون؛ اور یہ خزانہ کمزور کی قوت ہے۔ دل کی اتھاه گہرائیوں سے نکلنے والا آبِ حیات کا چشمہ، سعادتوں کا سرچشمہ، آرزوؤں کے صحرا میں نخلستانوں کا مُژدہ۔ آنسو تنہائیوں کا ساتھی، دُعاٶں کی قبولیت کی نوید، انسان کے پاس ایسی متاعِ بےبہا ہے جو اُسے دیدہ وری کی منزل عطا کرتی ہے۔ یہ موتی بڑے انمول ہیں۔ یہ خزانہ بڑا گراں مایہ ہے۔ یہ تُحفہ فِطرت کا نادر عطیہ ہے۔ تقربِ الٰہی کے راستوں پر چراغاں کرنے والے موتی انسان کے آنسو ہیں۔ ✍🏼: واصف علی واصف 📖: دل دریا سمندر

مجموعہ ادعیۃ القرآن

قران کریم میں موجود دعاؤں کا مجموعہ ان سب دعاؤں کو پڑھیں اور دوسروں کو بھی بھیجیں. 1✅ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ 2✅ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 3✅ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ 4✅ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ  5✅ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ 6✅ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ 7✅ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَن...

ایک کمرۂ امتحان میں

ایک کمرۂ امتحان میں بےنگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو بےخیال ہاتھوں سے اَن بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیں یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں! ہر طرف کَن اکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں دوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیں، شاید اس طرح کوئی راستہ ہی مل جائے! بے نشاں جوابوں کا کچھ پتہ ہی مل جائے! مجھ کو دیکھتے ہیں تو یوں جواب کاپی پر حاشیے لگاتے ہیں دائرے بناتے ہیں جیسے ان کو پرچے کے سب سوال آتے ہیں! اس طرح کے منظر مَیں امتحان گاہوں میں دیکھتا ہی رہتا تھا نقل کرنے والوں کے نت نئے طریقوں سے آپ لطف لیتا تھا، دوستوں سے کہتا تھا... کس طرف سے جانے یہ آج دل کے آنگن میں اک خیال آیا ہے سینکڑوں سوالوں سا اک سوال لایا ہے: "وقت کی عدالت میں زندگی کی صورت میں یہ جو تیرے ہاتھوں میں اک سوالنامہ ہے کس نے یہ بنایا ہے! کس لیے بنایا ہے! کچھ سمجھ میں آیا ہے؟" زندگی کے پرچے کے سب سوال لازم ہیں، سب سوال مشکل ہیں! بےنگاہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں پرچے کو بےخیال ہاتھوں سے اَن بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتا ہوں حاشیے لگاتا ہوں دائرے بناتا ہوں یا سوالنامے کو دیکھتا ہی جاتا ہوں! (✍🏼: امجد اسلام امجد)

عشق ہے!

درد جب سے دل نشیں ہے، عشق ہے! اس مکاں میں کچھ نہیں ہے، عشق ہے! دیکھ، دشتِ یاد کا اعجاز دیکھ میں کہیں ہوں، تُو کہیں ہے، عشق ہے! تھک کے بیٹھا ہوں جو کُنجِ ذات میں مہرباں کوئی نہیں ہے، عشق ہے! جو ازل سے ہجرتی ہیں، اشک ہیں جو ان اشکوں میں مکیں ہے، عشق ہے! اے سرابِ جبر و استبداد، سُن! یہ جو پیاسوں کا یقیں ہے، عشق ہے! کل جہاں دیوار ہی دیوار تھی اب وہاں در ہے، جبیں ہے، عشق ہے! خواب ہی میں دیکھ لے تعبیرِ خواب کون ایسا پیش بِیں ہے؟ عشق ہے! جیتے جی دشوار کتنا تھا سفر! اب نہ دنیا ہے نہ دِیں ہے، عشق ہے! رنج و غم کی سُرمئی چادر تقی جب سے بالائے زمیں ہے، عشق ہے!! (✍🏼: توقیر تقی)

مغربی نظریۂ زندگی

یہ ہے مغرب جس کی نظر میں:  * کروڑوں انسان آج ’ویدا‘ کی تعلیمات کی طرف واپسی کا رخ کریں... یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں * کروڑوں لوگوں کو ’بدھا‘ کی تعلیمات کی طرف لوٹانے کی تحریکیں چلیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ** ہاں امتِ اسلام کا کوئی ایک بھی خطہ اگر "نورِ قرآن" اور "ھدیِ محمدﷺ" کی جانب واپسی کا سوچ بھی لے ... تو یہ ہوش اڑا دینے والی بات ہے اور انسانیت کے لیے تاریخ کا خطرۂ عظیم! سفر الحوالی۔ https://www.facebook.com/Dr.safarAlhawali/posts/213668812004719

نایافت کا سفرنامہ

نایافت کا سفرنامہ ہم تجسس کے تپتے بیاباں کے جّھلسے پرندے عجب ان گنت موسموں میں اُڑے ماسوا کے تعاقب میں نکلے، پہ ہر بار خالی نگاہیں لیے مرجعِ ہست کی سَمت ناکام لوٹے گدلے پانی کی گہرائی میں جانے کیا کچھ ہے، کیا کچھ نہیں کون کس طرح جانے؟ مدّتوں ہم رہے ہیں خلاؤں میں گرمِ سفر پر اُچٹتی نگاہوں کی ڈھیلی گرفت آج بھی ہست کے ابر پاروں کے پیچھے کی ہر چیز سے بےخبر ہے (سچ تو یہ ہے کہ آنکھوں سے نایافت کی کھوج بھی اک خسارے کی سوداگری ہے) نہ جانے وہ کیا چیز تھی جس کی خاطر زمینِ بدن سے نکلنے کا الزام بھی اپنے سر پر لیا؟ پہاڑوں کے اُس پار __ دریاؤں کی اوٹ میں کس جگہ پر وہ کیا تھا، کہاں پر تھی وہ سرزمیں جس کی مٹی میں میرے لیے معجزے تھے؟ جہاں کے سبھی مرد اچھے، سبھی عورتیں نیک دل تھیں کہاں ہے وہ بستی؟ کہاں پر تھا کیا؟ جس کی خاطر شب و روز تنہائیوں کے اجنتا میں خوں رنگ خاکے بناتے رہے سوچتے تھے، کبھی سالہا سال کی اس ریاضت کا پھل گر اکٹھا ملا تو سمجھ لیں گے جینے کی محنت ٹھکانے لگی! اے ازل سے پریشاں ہوا، شہرِ نایافت کے راستوں کی اکیلی مسافر! ہمارا اَلَم سُن! کہ ہم ہر گھڑی مسخ ہوتی شباہت لیے خود کو یوں دیکھتے ہی...

ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے

ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے ابھی تو زندگی ہے پُرسکُوں آرام پل پل میں ابھی تو وقت کا بِچُّھو چُھپا بیٹھا ہے آنچل میں ابھی ہر سمت ٹھنڈی چھاؤں ہے ابھی سُورج نہیں نکلا ابھی تو موسموں نے گُل رُتوں کا بھیس پہنا ہے ابھی جذبے جواں ہیں خواہشوں اور آرزوؤں میں تلاطم ہیں ابھی پُختہ اِرادے ہیں ابھی پُرکیف جادے ہیں مگر دیکھو ابھی آغاز ہے اپنے سفر کا ابھی تو منزلوں کا دُور تک کوسوں نشاں ممکن نہیں کوئی ابھی تو دُور جانا ہے بہت ہی دُور جانا ہے ابھی تو راستوں کے کرب نے اک کارواں کی شکل میں مل کر نکلنا ہے ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے ابھی تو فاصلوں کا یوں سمٹ جانا کُجا ٹھہرا ابھی تو فاصلوں نے پھیل جانا ہے ابھی تو مشکلوں نے گھیرنا ہے اس قدر کہ زندگی نے چیخ اُٹھنا ہے سفر میں تو ابھی ایسے ہزاروں موڑ آنے ہیں کہ ہر اک موڑ پر گِرنا سنبھلنا ہے ہواؤں نے ابھی شعلے اُگلنا ہے ابھی تو نااُمیدی نے بھی گھر کرنے کی دل میں کوششِ ناکام کرنی ہے ابھی جذبوں نے بھی کمزور پڑنے اور تمنّاؤں نے بھی دم توڑنے کی ٹھان لینی ہے!! مگر دیکھو! ہمیں اپنے اِرادوں کو بہم مضبوط رکھنا ہے!! (✍🏼: مُضطِر گِشکوری)

لبرلزم اور اسلام

Image
"ایمان" کا مطلب: ماننا۔ "ایمان" کے مقابل لفظ: "کفر" "اسلام" کا مطلب: خدا کے آگے سپرد ہونا، پابند ہونا، تسلیم ہونا۔ "اسلام" کے مقابل لفظ گویا اب جا کر ایجاد ہوا: "لبرلزم" پس "ایمان" اور "اسلام" معنیٰ کے کچھ فرق کے باوجود عملاً ایک دوسرے کے متبادل interchangeable لفظ ہیں تو "کفر" اور "لبرلزم" بھی ایک دوسرے کے متبادل interchangeable لفظ ہوئے۔ "لبرلزم" کے "کفر" ہونے پر دورِ حاضر کے علمائے سنت میں ہرگز دو رائے نہیں

تاریخ کیا ہے؟ __ ایک نقطۂ نظر

Image
تاریخ ایک ایسی طوائف ہے جو زور آور زمینی خداؤں کے آنگن میں رقص کرتی ہے. آسمانی خداؤں کی خواہشوں کے مطابق ڈھلتی جاتی ہے. یہ دروغ گوئی، تعصب، تنگ نظری اور بے ایمانی سے گوندھی ہوئی ایسی مٹی ہے جسے تکبر، عروج اور تخت شاہی کے تابع چاک پر چڑھا کر ہر نسل اور ہر الوہی عقیدہ اپنی من مرضی کا کوزہ تخلیق کرتا ہے اور پھر اُس کوزے کو سینے سے لگانے والے اُس میں گنگا جل اور نہ ٹھہرنے والے پانیوں کی نمی محسوس کرتے اپنے آپ کو دنیا بھر سے افضل قرار دیتے ہیں اور یہ کوزہ منطق اور دلیل کی ہلکی سی آنچ سے ہی ڈھے جاتا ہے؛ لیکن وہ احتیاط کرتے ہیں منطق اور دلیل کا سایہ بھی اپنے ڈھالے ہوئے تاریخ کے کوزے پر پڑنے نہیں دیتے.. تاریخ گھڑی جاتی ہے۔ یہ خوابوں، سرابوں، نسلی امتیاز اور عقیدوں کے تنکوں سے تعمیر کردہ ایک ایسا گھونسلا ہے جس کی تعمیر میں خرابی مضمر ہے اور تم سب ان گھونسلوں میں روپوش اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے والے پرندے ہو، نہیں جانتے کہ تم سے پہلے بھی ایسے گھونسلے اقوام اور مذاہب نے تعمیر کیے جو زمانوں نے خس و خاشاک کر دیئے.. گہرے سمندروں کی عمیق گہرائیوں کی تہہ میں تاریخ، ایک ایسا کھلا ہوا آبی پھول...

THE KING 👑 WITH FOUR WIVES

THE KING WITH FOUR WIVES Once upon a time there was a rich king who had four wives. He loved the fourth wife the most and adorned her with rich robes and treated her to the finest delicacies. He gave her nothing but the best. He also loved the third wife very much and showed her off to neighboring kingdoms. However, he feared that one day she would leave him for another. He also loved his second wife. She was his confidante and she was always kind, considerate and patient with him. Whenever the king faced a problem, he could confide in her to help him get through the difficult times. The king’s first wife was a very loyal partner and had made great contributions in maintaining his wealth and kingdom. However, he did not love the first wife but although she loved him deeply, he hardly took notice of her. One day, the King fell ill and he knew that his time was short. Thus, he asked the 4th wife, “I have loved you the most endowed you with the finest clothing and showered great care over...
Mankind seems to be at a historic crossroads, facing for the first time an existential choice between self-preservation and self-destruction. Man's inquisitive nature has led him to constantly meddle in nature's scheme of things, resulting in the latter's revenges and blights, terrible in origin and gruesome in execution. Advancement in science and technology has been reciprocated with ills and ailments, woes and worries, extreme to say the least. For his own comfort man has continuously been ravaging the ecosystem he needs so badly for his own survival as a species. The gigantic proportions to which environmental pollution has reached, threatens its originator _ Man _ the most. As such, there is a perilous precipice bordering on survival and annihilation, existence and extinction. There is a tide in the affairs of men which has to be dealt with very diligently, efficiently and vigilantly; otherwise, man's future seems doomed. We'll have to take the bull by its horn...