Posts

Showing posts from July, 2022

نایافت کا سفرنامہ از ڈاکٹر ریاض مجید

نایافت کا سفرنامہ ہم تجسس کے تپتے بیاباں کے جُھلسے پرندے عجب ان گنت موسموں میں آڑے ماسوا کے تعاقب میں نکلے، پہ ہر بار خالی نگاہیں لیے مرجعِ ہست کی سَمت ناکام لوٹے گدلے پانی کی گہرائی میں جانے کیا کچھ ہے، کیا کچھ نہیں کون کس طرح جانے؟ مدتوں ہم رہے ہیں خلاؤں میں گرمِ سفر پَر اُچٹتی نگاہوں کی ڈھیلی گرفت آج بھی ہست کے ابرپاروں کے پیچھے کی ہر چیز سے بے خبر ہے (سچ تو یہ ہے کہ آنکھوں سے نایافت کی کھوج بھی اک خسارے کی سوداگری ہے!) نہ جانے وہ کیا چیز تھی جس کی خاطر زمینِ بدن سے نکلنے کا الزام بھی اپنے سر پر لیا؟ پہاڑوں کے اُس پار __ دریاؤں کی اوٹ میں کس جگہ پر وہ کیا تھا کہاں پر تھی وہ سرزمیں جس کی مٹی میں میرے لیے معجزے تھے؟ جہاں کے سبھی مرد اچھے، سبھی عورتیں نیک تھیں کہاں ہے وہ بستی؟ کہاں پر تھا کیا؟ جس کی خاطر شب و روز تنہائیوں کے اجنتا میں خوں رنگ خاکے بناتے رہے سوچتے تھے کبھی سالہا سال کی اس ریاضت کا پھل گر اکٹھا ملا تو سمجھ لیں گے جینے کی محنت ٹھکانے لگی! اے ازل سے پریشاں ہوا، شہرِ نایافت کے راستوں کی اکیلی مسافر! ہمارا الم سُن! کہ ہم ہر گھڑی مسخ ہوتی شباہت لیے خود کو یوں دیکھتے ہیں کہ جی...