Posts

Showing posts from December, 2021

مجھے کھا گئے

یہ جو ننگ تھے، یہ جو نام تھے، مجھے کھا گئے  یہ خیالِ پختہ جو خام تھے، مجھے کھا گئے  کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی وہی زاویے کہ جو عام تھے، مجھے کھا گئے  میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں یہ جو لوگ محوِ کلام تھے، مجھے کھا گئے  وہ جو مجھ میں ایک اکائی تھی، وہ نہ جُڑ سکی یہی ریزہ ریزہ جو کام تھے، مجھے کھا گئے  یہ عیاں جو آبِ حیات ہے، اِسے کیا کروں  کہ نہاں جو زہر کے جام تھے، مجھے کھا گئے  وہ نگیں جو خاتمِ زندگی سے پھسل گیا تو وہی جو میرے غلام تھے، مجھے کھا گئے  میں وہ شعلہ تھا جسے دام سے تو ضرر نہ تھا پہ جو وسوسے تہہِ دام تھے، مجھے کھا گئے  جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں، مجھے راس تھیں  یہ جو زہر خند سلام تھے، مجھے کھا گئے  (خورشید رضوی)

محبت ہمسفر میری

محبت ہم سفر میری کٹھن ہے زندگی کتنی! سفر دشوار کتنا ہے! کبھی پاؤں نہیں چلتے کبھی رستہ نہیں ملتا ہمارا ساتھ دے پائے کوئی ایسا نہیں ملتا فقط ایسے گزاروں تو یہ روز و شب نہیں کٹتے یہ کٹتے تھے کبھی پہلے مگر ہاں اب نہیں کٹتے مجھے پھر بھی مرے مالک کوئی شکوہ نہیں تجھ سے میں جاں پہ کھیل سکتا ہوں میں ہر دکھ جھیل سکتا ہوں اگر تو آج ہی کر دے محبت ہم سفر میری!!

کیسے ہو گئے؟

پڑے ہوئے تھے، شاملِ قطار کیسے ہو گئے؟ اے کارِ زندگی، ترے شکار کیسے ہو گئے؟ یہ خاکِ گمشدہ تمہارے ہاتھ کس طرح لگی؟ تمہاری انگلیوں پہ ہم شمار کیسے ہو گئے؟ تو کیا بہت کشش ہے اس جہانِ رنگ و موج میں؟ قرارِ دل، ہم اتنے بے قرار کیسے ہو گئے؟ ہمیں تو اپنی خاک ساریاں بہت عزیز تھیں نگارِ سیم و زر پہ ہم نثار کیسے ہو گئے؟ یہ عمر تو کسی عجیب واقعے کی عمر تھی! یہ دن فقط سپردِ روزگار کیسے ہو گئے؟؟ (فیضی)