ردیف، قافیہ، بندش، خیال، لفظ گری از شہزاد قیس
رَدیف ، قافیہ ، بندِش ، خیال ، لفظ گری وُہ حُور ، زینہ اُترتے ہُوئے سکھانے لگی کتاب ، باب ، غزل ، شعر ، بیت ، لفظ ، حُروف خفیف رَقص سے دِل پر اُبھارے مست پری کلام ، عَرُوض ، تغزل ، خیال ، ذوق ، جمال بدن کے جام نے اَلفاظ کی صراحی بھری سلیس ، شستہ ، مُرصع ، نفیس ، نرم ، رَواں دَبا کے دانتوں میں آنچل ، غزل اُٹھائی گئی قصیدہ ، شعر ، مسدس ، رُباعی ، نظم ، غزل مہکتے ہونٹوں کی تفسیر ہے بھلی سے بھلی مجاز ، قید ، معمہ ، شبیہ ، اِستقبال کسی سے آنکھ ملانے میں اَدبیات پڑھی قرینہ ، سَرقہ ، اِشارہ ، کِنایہ ، رَمز ، سوال حیا سے جھکتی نگاہوں میں جھانکتے تھے سبھی بیان ، علمِ معانی ، فصاحت ، علمِ بلاغ بیان کر نہیں سکتے کسی کی ایک ہنسی قیاس ، قید ، تناسب ، شبیہ ، سَجع ، نظیر کلی کو چوما تو جیسے کلی ، کلی سے ملی ترنم ، عرض ، مکرر ، سنائیے ، اِرشاد کسی نے ’’سنیے‘‘ کہا ، بزم جھوم جھوم گئی حُضُور ، قبلہ ، جناب ، آپ ، دیکھیے ، صاحب کسی کی شان میں گویا لغت بنائی گئی حریر ، اَطلس و کمخواب ، پنکھڑی ، ریشم کسی کے پھول سے تلووں سے شاہ مات سبھی گلاب ، عنبر و ریحان ، موتیا ، لوبان کسی کی زُلفِ معطر میں سب کی خوشبو م...