اداسی ‏ترک ‏کر ‏دو ‏اب ‏از ‏منان ‏قدیر ‏منان

اداسی ترک کر دو اب

اداسی ترک کر دو اب
یونہی بےکار مت بیٹھو
کسی کے ہجر میں جاناں
نہ خود کو اتنا تڑپاؤ
اداسی ایک شعلہ ہے
گھروں کو جو جلاتا ہے
یہ دل بھی اک گھروندا ہے
اگر جل جائے
تو باقی نہیں رہتا ہے پھر کچھ بھی
مری مانو
وہ سارے خط جو اس نے تم کو لکھے تھے
جلا ڈالو
تمہیں جس نے بھلا ڈالا
اسے تم بھی بھلا ڈالو!!

(منان قدیر منان)

Comments

Popular posts from this blog

The Romantic Poet

نظم جاری ہوئی

میں ‏نے ‏اکثر ‏یہ ‏سوچا ‏یے ‏از ‏یوسف ‏خالد