بھٹکتے ‏ہوئے ‏پرندے ‏|| ‏پشتو ‏ادب ‏سے ‏انتخاب

" بھٹکتے ہوئے پرندے "
پشتو ادب سے
فاروق سرور

 خوب روتے ہیں دونوں پرندے،جب وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انہیں محلوں سے بھری ہوئی اس بستی سے واپس جانا پڑے گا۔کمال کی حسین سی بستی ہوتی ہے،لیکن دونوں کو اب اس خوبصورت دنیا کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ہوتا ہے اور یہی دکھ کی بات ہوتی ہے۔اس طرح دو تین دن تو ان دونوں کو خوب روتے ہوۓ اور ماتم کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔

جب وہ یہاں سے کوچ کرنے لگتے ہیں تو اس اجنبی پرندے کو خوب برا بھلا بھی کہتے ہیں،جس نے انہیں اس بستی کا پتہ دیا ہوتا ہے۔

دراصل اس پرندے نے انہیں بتایا ہوتا ہے کہ تم دونوں کو خواب اسی ایک بستی میں ہی ملیں گے،جو محلات کی بستی کے نام سے مشہور ہے،کیونکہ وہ خوابوں کی بستی کی تلاش میں بھٹک رہے ہوتے ہیں۔لیکن تلاش بسیار کے باوجود دونوں کو وہاں اس بستی میں کوئی بھی خواب نہیں ملتا ۔وہ ایک ایک محل کو چھان مارتے ہیں،لیکن دونوں کو وہاں خواب تو خواب ، انسان بھی نہیں ملتے۔انسانوں سے خالی بستی۔ یہ پھر عجیب سے بات ہوتی ہے۔کبھی کبھار وہ دونوں ایک دوسرے کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں ہیں کہ کہیں یہ جادو کی بستی تو نہیں؟

جونہی وہ مایوس ہو کر یہاں سے واپسی کے لیے پرواز کرنے لگتے ہیں۔تو اچانک وہی اجنبی پرندہ برآمد ہوتا ہے جس نے انہیں اس بستی کا پتہ بتایا ہوتا ہے۔ان دونوں چھوٹے پرندوں کے برعکس وہ پرندہ ذرا سا بڑا ہوتا ہے ۔وہ پرندہ پہلے بھی سنجیدہ ہوتا ہے اور اب بھی۔پرندہ حیرت سے پوچھتا ہے کہ تم دونوں یہاں سے کوچ کرنے لگے ہو،واپس جانے لگے ہو۔ آخر کیوں ؟ کیا خواب نہیں ملے تم دونوں کو ؟

اب دونوں اس پرندے سے لڑنے لگتے ہیں کہ تم بہت دھوکے باز ہو ،تم نے ہم دونوں کے ساتھ دھوکا کیا،ہمیں غلط جگہ بتائی، یہاں تو خواب نام کی کوئی چیز نہیں۔دونوں غصے سے کانپ بھی رہے ہوتے ہیں .

اجنبی پرندہ بڑا سمجھدار ہوتا ہے۔اب وہ ان دونوں پرندوں کو سمجھانے لگتا ہے کہ تم دونوں نے بستی کو اچھی طرح چھان مارا نہیں ہوگا،لیکن دونوں پرندے اس پر شک کرتے ہیں کہ تم نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہوگا۔پرندہ پہلی مرتبہ مسکراتا ہے کہ مجھے دھوکا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔تم لوگ جاؤ ایک بار پھر اچھی طرح دیکھو۔خواب تمہیں ضرور ملیں گے۔

دونوں معصوم پرندے ایک بار پھر اس اجنبی پرندے کی باتوں میں آجاتے ہیں اور ایک بار پھر اسی طرح کرتے ہیں ، جس طرح اس نے ہدایت کی ہوتی ہے لیکن خواب ان دونوں کو پھر بھی نہیں ملتے۔اب دونوں پرندے اس اجنبی پرندے کو واقعی دھوکاباز سمجھتے ہیں۔

اب وہ دونوں پھر اس اجنبی پرندے کی طرف اڑتے ہوئے آتے ہیں ، جو ایک سرسبز درخت میں بیٹھا ان کا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور ایک بار پھر دونوں کی اس کے ساتھ لڑائی شروع ہوجاتی ہے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ بتائے ہوئے خواب؟

اب وہ اجنبی پرندہ ایک عجیب سا انکشاف کرتا ہے کہ اگر تم واقعی اپنے مقصد میں سنجیدہ ہو،تو میں بھی تم لوگوں کو سچ بتا دیتا ہوں۔ در حقیقت وہ خواب ہر محل کے ایک مخصوص کمرے میں قید ہیں ۔   

 "قید ہیں ؟ کیوں انہیں قید رکھا گیا ہے؟ " دونوں چیخ کر پوچھ لیتے ہیں۔

 "یہ وقت سوال اور جواب کا نہیں، جاؤ اور اپنا مقصد حاصل کرو۔ وہ سب تم دونوں کو وہاں بند مل جائیں گے ۔"

اب وہ دونوں پرندے دوبارہ ان محلات کی طرف اڑتے ہوئے آتے ہیں ،وہ دونوں ایک، ایک محل میں جاتے ہیں ، ان کو ہر محل میں وہ مخصوص کمرہ مل بھی جاتا ہے،جہاں انہیں قید رکھا گیا ہوتا ہے، لیکن ہر کمرے کا دروازہ بہت مضبوط ہوتا ہے، وہاں موجود کھڑکیاں بھی مضبوطی سے بند ہوتی ہیں اور وہاں کے روشندان بھی مضبوطی سے۔وہ دونوں جب ان روشن دانوں کے مضبوط موٹے شیشوں سے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں ، تو واقعی ان کمروں میں سے ہر کمرہ خوابوں سے بھرا ہوتا ہے ۔

تمام خواب ان کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں ،رو رہے ہوتے ہیں اور اشارے کر رہے ہوتے ہیں کہ خدا کے لئے ہمیں اس قید سے نجات دلاؤ ۔لیکن ایسا کرنا ان کمزور پرندوں کے بس میں نہیں ہوتا اور روشن دان ، کھڑکیاں اور اس کے شیشے بہت مضبوط ہوتے ہیں اور وہ اپنے نازک چونچوں سے ان کو توڑنے میں کامیاب نہیں رہتے۔

ایک بار پھر دونوں کا اس اجنبی اور پراسرار پرندے کی طرف آنا اور یہ تمام صورت حال بتانا۔اب پرندہ ان دونوں پرندوں سے اچانک ایک عجیب سی بات پوچھتا ہے۔لگتا ہے کہ جیسے وہ ان کو کھوج رہا ہے۔

" تم دونوں تو پرندے ہو، تم دونوں کو خوابوں میں کیا دلچسپی نظر آئی؟"

اب وہ دونوں پرندے بیک آواز بتانے لگتے ہیں۔" ہم نے اپنی پوری زندگی میں صرف ایک بار ہی خواب دیکھا کہ ایک پرندہ اپنا گھونسلہ بنا رہا ہے۔پھر جب ہم نے اسی طرح کا گھونسلہ اسی ترتیب سے بنایا،تو وہ اتنا خوبصورت، شاندار اور عالیشان تھا کہ ہمارے ساتھی پرندے تمام حیران رہ گئے کہ اس طرح کا گھونسلہ ہم نے کیوں نہیں بنایا۔پھر ادھر ادھر سے خوب پرندے اس کو دیکھنے آے۔تب سے ہم اس بات کے معترف ہوگئے کہ خواب خوبصورتی لاتے ہیں، اس لئے ہر صورت میں خوابوں کو دیکھنا چاہئے۔تب ہم نے بہت کوشش کی کہ ایک بار پھر کوئی خواب دیکھیں، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا، تب ہر کسی سے پوچھا کہ خوابوں کی بستی کہاں ہے، جہاں سے ہمیں خواب ملیں،ہم مزید خوبصورتیاں پھیلائیں ۔لیکن ہمیں کہیں پر بھی خوابوں کی بستی نہیں ملی۔آخر ایک دن تم ہمیں مل گئے اور تم نے محلات کی اس بستی کا پتہ ہمیں بتایا۔"

 وہ اجنبی پرندہ اب خاموش رہتا ہے۔

ایک بار پھر دونوں پرندے اس اجنبی پرندے سے پوچھتے ہیں کہ یہ تو بتاؤ کہ اس بستی کے لوگ کہاں ہیں؟وہ کیوں نظر نہیں آ رہے؟

اجنبی پرندہ بتاتا ہے کہ وہ اس بستی کو چھوڑ کر چلے گئے۔لیکن جاتے وقت اپنے خوابوں کو یہاں قید کر گئے کہ ہم لوگ بنیادی طور پر نفیس، شائستہ ، شریف اور خوبصورت لوگ ہیں۔کہیں کسی اجنبی دیس میں کوئی ہم سے ہمارے ان خوابوں کو چھیننے کی کوشش نہ کرے ۔ کیوں نا ہم انہیں یہاں حفاظت سے چھوڑ کر چلے جائیں۔ تاکہ یہ یہاں سے باغی بھی نہ ہوجائیں اور بھاگنے میں کامیاب بھی نہ ہوں۔

" تو کیا وہ دوبارہ یہاں نہیں آ سکتے؟" دونوں ایک بار پھر حیرت سے پوچھتے ہیں۔
" اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتاؤ کہ انہوں نے محلات کی یہ خوبصورت بستی چھوڑی کیوں،جو اب کہیں کہیں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو چلیں ہیں؟"

" میری وجہ سے! "

"تمہاری وجہ سے, لیکن کیوں"

" بس انہوں نے مجھ سے کئی بار کہا کہ اس بستی کو چھوڑو ،لیکن میں اس خوبصورت بستی کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھا۔ایسا غضب کا حسن میں نے کہیں پر بھی نہیں دیکھا"

" تم میں تو بظاہر ایسا کوئی بھی عیب نہیں پھر وہ کیوں تم سے نفرت کرتے تھے۔کیا وہ بد نیت تھے؟"

" بس . چھوڑو بھی ،ان کو مجھ سے تو کیا میرے نام سے بھی نفرت تھی."

 " توبہ۔ لیکن کیوں؟"

" سب کچھ بتا دوں گا، لیکن تم لوگ اس سے پہلے مجھ سے یہ وعدہ کرو کہ تم دونوں اس کے فوراً بعد مجھے مار دو گے ، ختم کر دو گے اور نیست ونابود کر دو گے۔"

 "نیست و نابود کر دو گے ، یہ کیسی باتیں کر رہے ہو،لیکن کیوں؟" دونوں حیرت سے پوچھتے ہیں.

" بس پچھتاوا"

" کیا نام ہے تمہارا ؟"

"بد صورتی!"

Comments

Popular posts from this blog

میں ‏نے ‏اکثر ‏یہ ‏سوچا ‏یے ‏از ‏یوسف ‏خالد

اداسی ‏ترک ‏کر ‏دو ‏اب ‏از ‏منان ‏قدیر ‏منان

ردیف، ‏قافیہ، ‏بندش، ‏خیال، ‏لفظ ‏گری ‏از ‏شہزاد ‏قیس