نظم جاری ہوئی
نظم جاری ہوئی
سنگ باری ہوئی
نظم جاری ہوئی
نظم!
جس کا ہر اک لفظ دلگیر تھا
(مصرعۂ میر تھا)
نظم!
جس کا ہر اک بند مزدور تھا
(جذبِ منصور تھا)
نظم جاری ہوئی
تخت و منبر پہ بیٹھے ہوؤں کے کلیجوں پہ جیسے چھری چل گئی!
شور اٹھا کہ روکو اِسے
اِس سے پہلے کہ مظلومیانِ جُنوں کے لہو میں نہائی ہوئی نظم آگے بڑھے
کاٹ ڈالو اِسے
اس کے جوشیلے مصرعوں کے سینوں پہ فتووں کے پتھر دھرو
یوں بھی یہ نظم ہے اور "مؤنّث" ہی ہے
پیس ڈالو اِسے!
شاعری کفر ہے
سوچنا جرم ہے
اس سے پہلے کہ یہ "سوچ" آگے بڑھے
ختم کر دو اِسے
اور یہ سب کچھ ہُوا
کتنی نوخیز نظموں کی عصمت لُٹی
تازیانے لگے
کارو کاری ہوئی
سنگ باری ہوئی
نظم جاری ہوئی
ہر نئے ظلم سے اور ہر مرتبہ
نظم جاری ہوئی
جراتوں کا یہ دورانیہ چل پڑا ہے، سو اب رکنے والا نہیں
سرخ پھولوں کی مہکار وہ دھار ہے
جس کی زد سے کوئی جبر ہو، قہر ہو
بچنے والا نہیں!!
(علی زریون)
Comments
Post a Comment