اے ‏خاصۂ ‏خاصانِ ‏رُسُل

اے خاصۂ خاصانِ رُسُل، وقتِ دعا ہے
امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے

وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے چراغاں
اب اس کی مجالس میں نہ بتّی نہ دیا ہے

جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے

جس دین نے دل آ کے تھے غیروں کے ملائے
اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے

ہے دین ترا اب بھی وہی چشمۂ صافی
دیں داروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے

جس قوم میں اور دین میں ہو علم نہ دولت
اس قوم کی اور دین کی پانی پہ بِنا ہے

(مولانا الطاف حسین حالی)

Comments

Popular posts from this blog

میں ‏نے ‏اکثر ‏یہ ‏سوچا ‏یے ‏از ‏یوسف ‏خالد

اداسی ‏ترک ‏کر ‏دو ‏اب ‏از ‏منان ‏قدیر ‏منان

ردیف، ‏قافیہ، ‏بندش، ‏خیال، ‏لفظ ‏گری ‏از ‏شہزاد ‏قیس