محبت ہمسفر میری

محبت ہم سفر میری

کٹھن ہے زندگی کتنی!
سفر دشوار کتنا ہے!
کبھی پاؤں نہیں چلتے
کبھی رستہ نہیں ملتا
ہمارا ساتھ دے پائے
کوئی ایسا نہیں ملتا
فقط ایسے گزاروں تو
یہ روز و شب نہیں کٹتے
یہ کٹتے تھے کبھی پہلے
مگر ہاں اب نہیں کٹتے
مجھے پھر بھی مرے مالک
کوئی شکوہ نہیں تجھ سے
میں جاں پہ کھیل سکتا ہوں
میں ہر دکھ جھیل سکتا ہوں
اگر تو آج ہی کر دے
محبت ہم سفر میری!!

Comments

Popular posts from this blog

میں ‏نے ‏اکثر ‏یہ ‏سوچا ‏یے ‏از ‏یوسف ‏خالد

اداسی ‏ترک ‏کر ‏دو ‏اب ‏از ‏منان ‏قدیر ‏منان

ردیف، ‏قافیہ، ‏بندش، ‏خیال، ‏لفظ ‏گری ‏از ‏شہزاد ‏قیس