کیسے ہو گئے؟

پڑے ہوئے تھے، شاملِ قطار کیسے ہو گئے؟
اے کارِ زندگی، ترے شکار کیسے ہو گئے؟

یہ خاکِ گمشدہ تمہارے ہاتھ کس طرح لگی؟
تمہاری انگلیوں پہ ہم شمار کیسے ہو گئے؟

تو کیا بہت کشش ہے اس جہانِ رنگ و موج میں؟
قرارِ دل، ہم اتنے بے قرار کیسے ہو گئے؟

ہمیں تو اپنی خاک ساریاں بہت عزیز تھیں
نگارِ سیم و زر پہ ہم نثار کیسے ہو گئے؟

یہ عمر تو کسی عجیب واقعے کی عمر تھی!
یہ دن فقط سپردِ روزگار کیسے ہو گئے؟؟

(فیضی)

Comments

Popular posts from this blog

میں ‏نے ‏اکثر ‏یہ ‏سوچا ‏یے ‏از ‏یوسف ‏خالد

اداسی ‏ترک ‏کر ‏دو ‏اب ‏از ‏منان ‏قدیر ‏منان

ردیف، ‏قافیہ، ‏بندش، ‏خیال، ‏لفظ ‏گری ‏از ‏شہزاد ‏قیس