ایک کمرۂ امتحان میں
ایک کمرۂ امتحان میں
بےنگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو
بےخیال ہاتھوں سے
اَن بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیں
یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں!
ہر طرف کَن اکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں
دوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیں،
شاید اس طرح کوئی راستہ ہی مل جائے!
بے نشاں جوابوں کا کچھ پتہ ہی مل جائے!
مجھ کو دیکھتے ہیں تو
یوں جواب کاپی پر حاشیے لگاتے ہیں
دائرے بناتے ہیں
جیسے ان کو پرچے کے سب سوال آتے ہیں!
اس طرح کے منظر مَیں
امتحان گاہوں میں دیکھتا ہی رہتا تھا
نقل کرنے والوں کے
نت نئے طریقوں سے
آپ لطف لیتا تھا، دوستوں سے کہتا تھا...
کس طرف سے جانے یہ
آج دل کے آنگن میں اک خیال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں سا اک سوال لایا ہے:
"وقت کی عدالت میں
زندگی کی صورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں اک سوالنامہ ہے
کس نے یہ بنایا ہے!
کس لیے بنایا ہے!
کچھ سمجھ میں آیا ہے؟"
زندگی کے پرچے کے
سب سوال لازم ہیں، سب سوال مشکل ہیں!
بےنگاہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں پرچے کو
بےخیال ہاتھوں سے
اَن بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتا ہوں
حاشیے لگاتا ہوں
دائرے بناتا ہوں
یا سوالنامے کو
دیکھتا ہی جاتا ہوں!
(✍🏼: امجد اسلام امجد)
Comments
Post a Comment