چلو پھر لوٹ کے بچپن میں چلتے ہیں از گلزار
چلو پھر لوٹ کے بچپن میں چلتے ہیں
چلو پھر لوٹ کے بچپن میں چلتے ہیں
کبھی میں چور بن جاؤں، سپاہی بن کے تم ڈھونڈو
کبھی پٹھو گرم تو ڑیں
اور ہنس کے بھاگ جائیں ہم
یا وہ ہی کھیل
جس میں آنکھ بند کر کے کوئی بیٹھے، چُھپیں باقی
بنو تم دادی اماں اور بلاؤ اپنے بچوں کو
کبھی لڈو کا لالچ دو
کبھی سونے کے نیکلس کا
خزانہ ڈھونڈنے کی چاہ میں تم کو پکڑ لوں میں
مری آنکھوں میں حیرت سے
بھری آنکھوں سے یوں جھانکو
نہیں دیکھا کبھی پہلے
مجھے بھی یوں لگے جیسے خزانہ پا لیا میں نے!!
چلو پھر لوٹ کے بچپن میں چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
بہت دن ہو گئے بےکار کی دنیا میں اب رہتے
(گلزار)
Comments
Post a Comment