وہاں تم ٹوٹ جاؤ گے از احمد رضا راجا
وہاں تم ٹوٹ جاؤ گے!
مرے ساتھی!
جہاں ہر اک کلی
بھونرے کے بوسے کو ترستی ہو
جہاں بلبل کے نغموں کی صدائیں
ایک مدت سے نہ گونجی ہوں
جہاں پیڑوں پہ پنچھی
آشیانے نہ بناتے ہوں
جہاں جگنو نہ آتے ہوں
جہاں بےرنگ منظر ہوں
جہاں بےکیف موسم ہوں
جہاں خوشبو نہ پھیلی ہو
خزاں رت کا اجارہ ہو
وہاں تم سر پھری موجِ ہوا سے
لڑ نہ پاؤ گے
وہاں تم پھول مت بننا!
وہاں تم ٹوٹ جاؤ گے!!
(احمد رضا راجا)
Comments
Post a Comment