نایافت کا سفرنامہ
نایافت کا سفرنامہ
ہم تجسس کے تپتے بیاباں کے جّھلسے پرندے
عجب ان گنت موسموں میں اُڑے
ماسوا کے تعاقب میں نکلے، پہ ہر بار خالی نگاہیں لیے
مرجعِ ہست کی سَمت ناکام لوٹے
گدلے پانی کی گہرائی میں جانے کیا کچھ ہے، کیا کچھ نہیں
کون کس طرح جانے؟
مدّتوں ہم رہے ہیں خلاؤں میں گرمِ سفر
پر اُچٹتی نگاہوں کی ڈھیلی گرفت آج بھی
ہست کے ابر پاروں کے پیچھے کی ہر چیز سے بےخبر ہے
(سچ تو یہ ہے کہ آنکھوں سے نایافت کی کھوج بھی اک خسارے کی سوداگری ہے)
نہ جانے وہ کیا چیز تھی
جس کی خاطر زمینِ بدن سے نکلنے کا الزام بھی اپنے سر پر لیا؟
پہاڑوں کے اُس پار __ دریاؤں کی اوٹ میں کس جگہ پر
وہ کیا تھا،
کہاں پر تھی وہ سرزمیں جس کی مٹی میں میرے لیے
معجزے تھے؟
جہاں کے سبھی مرد اچھے، سبھی عورتیں نیک دل تھیں
کہاں ہے وہ بستی؟
کہاں پر تھا کیا؟
جس کی خاطر شب و روز تنہائیوں کے اجنتا میں خوں رنگ خاکے بناتے رہے
سوچتے تھے،
کبھی سالہا سال کی اس ریاضت کا پھل گر اکٹھا ملا تو
سمجھ لیں گے جینے کی محنت ٹھکانے لگی!
اے ازل سے پریشاں ہوا،
شہرِ نایافت کے راستوں کی اکیلی مسافر!
ہمارا اَلَم سُن!
کہ ہم ہر گھڑی مسخ ہوتی شباہت لیے خود کو یوں دیکھتے ہیں
کہ جیسے کوئی بُھولی بسری ہوئی روح صدیوں کے بعد اپنے
ویران گھر کی طرف لوٹ کر آئی ہو
اور فراموش دہلیز پر جا چُکے موسموں کی اُگی، بےتُکی،
پھیلتی گھاس میں دب چُکے اپنے پیاروں کے نقشِ قدم ڈھونڈتی ہو!
نظر کی پہنچ میں نہ آتے ستاروں سے پُھوٹی ہوئی روشنی
کیا خبر کس قدر نُور سالوں میں جاں کے اندھیروں تک آئے؟
محاذِ تجسُّس سے پسپائی پر جو نگاہوں نے دیکھا
کسے علم وہ کتنی صدیوں میں تحریر سے آشنا ہو؟
عادتاً ہم سخن زاد خالی ورق پر جُھکے ہیں!
لکھیں کیا؟ کہیں کیا؟
تجسُّس کے عالم میں دیکھا ہُوا ہر پُراسرار منظر،
گھنے برگدوں کی زمیں چُومتی بُوڑھی شاخوں سے چَھنتی ہوئی
واہمہ روشنی ہے!!
(✍🏼: ڈاکٹر ریاض مجید)
Comments
Post a Comment