ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے

ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے

ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے
ابھی تو زندگی ہے پُرسکُوں
آرام پل پل میں
ابھی تو وقت کا بِچُّھو چُھپا بیٹھا ہے آنچل میں
ابھی ہر سمت ٹھنڈی چھاؤں ہے
ابھی سُورج نہیں نکلا
ابھی تو موسموں نے گُل رُتوں کا بھیس پہنا ہے
ابھی جذبے جواں ہیں
خواہشوں اور آرزوؤں میں تلاطم ہیں
ابھی پُختہ اِرادے ہیں
ابھی پُرکیف جادے ہیں
مگر دیکھو
ابھی آغاز ہے اپنے سفر کا
ابھی تو منزلوں کا دُور تک کوسوں
نشاں ممکن نہیں کوئی
ابھی تو دُور جانا ہے
بہت ہی دُور جانا ہے
ابھی تو راستوں کے کرب نے
اک کارواں کی شکل میں مل کر نکلنا ہے
ابھی تو وقت نے کروٹ بدلنا ہے
ابھی تو فاصلوں کا یوں سمٹ جانا کُجا ٹھہرا
ابھی تو فاصلوں نے پھیل جانا ہے
ابھی تو مشکلوں نے گھیرنا ہے اس قدر
کہ زندگی نے چیخ اُٹھنا ہے
سفر میں تو ابھی ایسے ہزاروں موڑ آنے ہیں
کہ ہر اک موڑ پر گِرنا سنبھلنا ہے
ہواؤں نے ابھی شعلے اُگلنا ہے
ابھی تو نااُمیدی نے بھی گھر کرنے کی دل میں
کوششِ ناکام کرنی ہے
ابھی جذبوں نے بھی کمزور پڑنے
اور تمنّاؤں نے بھی دم توڑنے کی ٹھان لینی ہے!!
مگر دیکھو!
ہمیں اپنے اِرادوں کو بہم مضبوط رکھنا ہے!!

(✍🏼: مُضطِر گِشکوری)

Comments

Popular posts from this blog

The Romantic Poet

میں ‏نے ‏اکثر ‏یہ ‏سوچا ‏یے ‏از ‏یوسف ‏خالد

اداسی ‏ترک ‏کر ‏دو ‏اب ‏از ‏منان ‏قدیر ‏منان